Introduction: The Battle of Tabuk and the Call to Arms
یہ واقعہ اپنی روح میں بہت گہرائی لیے ہوئے ہے۔ تصور کیجیے، عرب کی زمین پر سورج آگ برسا رہا تھا۔ مدینہ منورہ سے دور، شمال کی طرف رومی (بازنطینی) سلطنت کی سرحدوں پر ایک بڑی فوج جمع ہو رہی تھی۔ یہ غزوۂ تبوک کا وقت تھا۔ یہ کوئی عام سفر نہیں تھا بلکہ ہجرت کے نویں سال کی وہ سخت گرمی تھی جب کھجوروں کے باغ بھی پکنے کو تھے اور سایہ بھی جان کنی کا سامان کر رہا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ مسلمانو! تیار ہو جاؤ۔ رومیوں کا لشکر بہت بڑا ہے، اور سفر بہت دور کا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ایسی گھڑی آئی کہ ایک ایک آدمی کے لیے سواری کا جانور یا پانی کی مشک جٹانا مشکل تھا۔ اسی مشکل گھڑی میں مسلمانوں کو "جیش العسرہ" یعنی "تنگی کے وقت کی فوج" کہا گیا۔
ہمارے پیارے صحابی، حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، انصاری تھے۔ وہ عقبہ کی رات بیعت کرنے والے خوش نصیب تھے اور بدر کے علاوہ تقریباً ہر غزوے میں شریک رہے تھے۔ لیکن اس بار ان کا دل اور قدم جیسے آپس میں الجھ گئے۔
Procrastination: A Test of Weakness or Cleverness?
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی زندگی میں کبھی اس قدر مالدار اور طاقتور نہیں تھا جتنا اس غزوے کے وقت تھا۔ میرے پاس دو سواریاں تھیں، زادِ راہ تھا، اور صحت بھی ٹھیک تھی۔ لیکن شیطان نے میرے دل میں وسوسہ ڈالا: "ابھی تھوڑی دیر کر لو، گرمی کم ہو جائے، تھوڑا سایہ دیکھ لو، لشکر تو کل پر چلے گا۔"
یہ "کل پر ڈالنا" تباہی کا سبب بن گیا۔ وہ ہر روز صبح اٹھتے، نیت کرتے کہ آج تیاری کروں گا، لیکن سامان ہاتھ نہ لگاتے۔ سستی کا یہ عالم تھا کہ جب وہ بازار جاتے تو دیکھتے کہ لوگ جہاد پر جا چکے ہیں، اور جو رہ گئے ہیں وہ یا تو بہت بوڑھے ہیں، عورتیں ہیں، بچے ہیں یا وہ منافق لوگ ہیں جن کے دل میں ایمان نہیں تھا۔
یہاں تک کہ ایک صبح وہ اٹھے تو مدینہ خاموش تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں وہ رونق نہیں تھی۔ پتا چلا کہ اسلامی لشکر روانہ ہو چکا ہے۔ کعب رضی اللہ عنہ کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ اب کیا کریں؟ اگر بھاگ کر بھی جائیں تو لشکر بہت آگے نکل چکا تھا۔ وہ بے بسی سے مدینہ میں رہ گئے۔
The Ultimate Test: Truth vs. Falsehood
جب رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے تو منافقین کی ایک قطار لگی تھی۔ وہ اپنی بڑی بڑی ڈاڑھیاں ہلاتے اور عجیب و غریب جھوٹی قسمیں کھا کر معذرتیں پیش کر رہے تھے۔ کسی نے کہا: "میرا گھر ٹوٹ گیا تھا۔" کسی نے کہا: "میری بیوی بیمار تھی۔" کسی نے کہا: "میرے پاس سواری نہیں تھی۔"
رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہری عذر قبول فرما لیے اور ان کے دل کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔
اب باری کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی تھی۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ ﷺ مسکرائے، لیکن وہ مسکراہٹ غصے کی تھی، جیسے کوئی استاد اپنے ہونہار شاگرد کی غلطی پر افسوس کر رہا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کعب! آخر تم کیوں رک گئے؟"
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر اس وقت روئے زمین پر کوئی بھی انسان ہوتا جس کے سامنے جھوٹ بول کر میں بچ سکتا تو میں ضرور بولتا۔ لیکن یہ تو رسول اللہ ﷺ تھے۔ مجھے یقین تھا کہ اگر میں نے جھوٹ بولا تو اللہ ضرور میری پول کھول دے گا۔ اور پھر تاریخ کے سنہری الفاظ ان کی زبان سے ادا ہوئے:
"یا رسول اللہ! واللہ! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ میں اس وقت جتنا طاقتور اور مالدار تھا، اتنا کبھی نہیں تھا۔ میں سستی کر گیا اور رہ گیا۔"
یہ سچ کا وہ لمحہ تھا جس نے فرشتوں کو بھی داد دینے پر مجبور کر دیا۔
Fifty Days of Agonizing Isolation
رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ صاف گوئی سنی اور فرمایا: "یہ سچ بولا، جاؤ اب اللہ تمہارا فیصلہ فرمائے گا۔"
اور پھر وہ حکم آیا جس نے کعب رضی اللہ عنہ کی زندگی کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم سے کوئی بھی بات نہ کرے۔ یہ ایک مکمل معاشرتی مقاطعہ (Social Boycott) تھا۔
یہاں پچاس دنوں کی وہ عبرت ناک داستان شروع ہوتی ہے جسے سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے:
- گلی کوچے: وہ مسجد نبوی جاتے تو لوگ انہیں دیکھ کر منہ پھیر لیتے۔ سلام کا جواب تک نہ ملتا۔ وہ جس مجلس میں جاتے، لوگ اٹھ کر چلے جاتے۔
- رشتہ دار: ان کے چچا زاد بھائی، جو ان سے بے حد پیار کرتے تھے، جب کعب نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا۔
- گھر کی دیواریں: ان کی اپنی بیوی نے پوچھا: "کیا ہم اپنے میکے چلی جائیں؟" کعب نے کہا: "نہیں، تم یہیں رہو، شاید اللہ کو رحم آ جائے۔"
- بازار: جب وہ بازار سے گزرتے تو لوگ کانا پھوسی کرتے، اور ایک خوفناک خاموشی ان کا پیچھا کرتی۔
وہ کہتے ہیں: "مدینہ جو میرا اپنا شہر تھا، مجھے ایسا لگنے لگا جیسے میں کسی اجنبی دیار میں ہوں۔"
The Temptation of the King of Ghassan and Ka'ab's Loyalty
اسی دوران، شام کے غسانی عیسائی بادشاہ کو جب خبر ملی کہ محمد ﷺ نے اپنے ایک بہادر شاعر اور صحابی کو چھوڑ دیا ہے، تو اس نے کعب رضی اللہ عنہ کو ایک خفیہ خط بھیجا۔ خط میں لکھا تھا:
"ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہیں حقیر جانا ہے۔ اللہ نے تمہیں ذلت کے گھر میں رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ ہمارے پاس آ جاؤ، ہم تمہیں مال و زر سے نوازیں گے اور عزت دیں گے۔"
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک کمزور انسان کا ایمان ڈگمگا سکتا تھا۔ ایک طرف اپنوں کی بے رخی، دوسری طرف غیروں کی محبت کا وعدہ۔ لیکن کعب رضی اللہ عنہ نے وہ خط پڑھا اور کہا: "یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔"
انہوں نے وہ خط جلا کر تنور میں ڈال دیا اور کہا: "میں نے اسلام کی چھاؤں میں سکون پایا ہے، میں کبھی کفر کی طرف نہیں جاؤں گا، چاہے پوری دنیا مجھے چھوڑ دے۔"
The Descent of Divine Mercy and Forgiveness
پچاس دن گزر گئے۔ کعب رضی اللہ عنہ کی داڑھی بڑھ گئی، رنگ زرد پڑ گیا، لیکن سجدے کی جگہ آنسوؤں سے تر رہتی۔ وہ راتوں کو اٹھ کر اللہ سے فریاد کرتے: "یا اللہ! تیرے سوا کوئی پناہ نہیں۔ اگر تیرا نبی ﷺ مجھ سے ناراض رہا تو میری دنیا ختم ہو جائے گی۔"
پچاسویں دن کی صبح تھی۔ کعب رضی اللہ عنہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے تھے، تنہا، اپنی حالت پر آنسو بہا رہے تھے۔ اچانک فجر کے وقت مدینہ کی گلیوں سے ایک آواز گونجی۔ ایک سوار پوری رفتار سے دوڑتا ہوا آیا اور پہاڑی پر چڑھ کر چلایا:
"اے کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ! اللہ نے تمہیں بخش دیا ہے!"
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس قدر خوشی سے لرز گیا کہ میرے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ میں نے فوراً وہی کپڑے پہنے جو میرے بدن پر تھے اور دوڑتا ہوا مسجد نبوی پہنچا۔ وہاں انصار اور مہاجرین نے قطار بنا کر مجھے مبارکباد دی اور کہنے لگے: "مبارک ہو! اللہ کی طرف سے تمہاری بخشش کی خوشخبری۔"
رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا، جیسے چودھویں رات کا چاند ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"کعب! آج سے بہتر دن تمہاری زندگی میں کبھی نہیں آیا جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا ہے۔"
اور پھر وحی نازل ہوئی، وہ آیات جنہیں آج ہم سورہ توبہ میں پڑھتے ہیں:
"اور ان تینوں پر بھی (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائی جو پیچھے رہ گئے تھے، یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے
باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں بھی ان پر بوجھ بن گئیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے پناہ ملنے
کی کوئی جگہ نہیں مگر اسی کی طرف، تب اللہ نے ان پر مہربانی کی تاکہ وہ توبہ کریں۔ بے شک اللہ بہت توبہ قبول
کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔"
— (سورۃ التوبہ، آیت 118)
Core Lessons: The Immense Power of Truth
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اس واقعے کے بعد میں نے اپنی زندگی میں کبھی جھوٹ بولنے کا سوچا تک نہیں۔ کیونکہ میں نے دیکھ لیا تھا کہ ایک بار کا سچ بولنا کتنا مشکل تھا، لیکن اس سچ نے مجھے ایسا نوازا کہ میرا نام قیامت تک قرآن میں زندہ ہو گیا۔
یہ کہانی ہمیں ایک سادہ سا مگر گہرا سبق دیتی ہے: دنیا میں ہم اکثر سوچتے ہیں کہ سچ بول کر مشکل میں پھنس جائیں گے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سچ بولنے والے کو وقتی طور پر دنیا والے چھوڑ سکتے ہیں، لیکن آسمان والا اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جھوٹ بولنے والے کو لوگ فوراً معاف کر کے بھول جاتے ہیں، لیکن سچ بولنے والے کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں امر کر دیتا ہے۔
اور سب سے خوبصورت بات جو اس واقعے میں چھپی ہے وہ یہ کہ اللہ کی رحمت اس وقت بھی نازل ہوتی ہے جب زمین آپ پر تنگ ہو جائے، بس شرط یہ ہے کہ آپ کا دل اسی کی طرف جھکا رہے اور آپ سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔