The Meeting That Changed the World
1995: First Meeting at Stanford University
سان فرانسسکو کے قریب سٹینفورڈ یونیورسٹی کے کیمپس میں مارچ 1995 کا ایک عام دن تھا۔ لیری پیج (Larry Page)، ایک 22 سالہ نوجوان جو مشی گن یونیورسٹی سے کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز کرنے آئے تھے، کسی پروگرام کے تحت سٹینفورڈ کا دورہ کر رہے تھے۔ ان کے ہمراہ ایک 23 سالہ روسی نژاد امریکی نوجوان تھے جن کا نام سرگے برن (Sergey Brin) تھا۔
سرگے برن، جن کے والدین روسی یہودی تھے اور 1979 میں سویت یونین سے امریکہ ہجرت کر کے آئے تھے، اس وقت سٹینفورڈ میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ وہ ایک انتہائی ذہین لیکن خود سر لڑکے تھے جو اکثر دوسروں کے خیالات پر سوال اٹھاتے تھے۔ لیری پیج، جن کے والد بھی کمپیوٹر سائنس پروفیسر تھے، ایک ایسے نوجوان تھے جو اپنے کمروں میں گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہتے تھے۔
پہلی ملاقات میں تلخی: جب لیری نے سٹینفورڈ کا دورہ کیا تو سرگے برن ان کو کیمپس دکھانے کے لیے آئے۔ دونوں کی پہلی بات چیت میں اختلافات ہوئے۔ لیری کو سرگے کی خود پسندی پسند نہیں آئی اور سرگے کو لیری کی سوچ بچکانہ لگی۔ لیکن دونوں میں ایک چیز مشترک تھی - دونوں دنیا کو بہتر بنانا چاہتے تھے۔
The Birth of BackRub: A Research Project (1996)
Winter 1996: Dormitory Room Number 360
1996 کے اوائل میں، جب لیری پیج نے بھی سٹینفورڈ میں پی ایچ ڈی شروع کی، انہیں ایک مسئلہ نے پریشان کر دیا: انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرنا کتنا مشکل ہے۔
اس وقت موجود سرچ انجنز (جیسے AltaVista, Yahoo, Lycos) صرف ویب پیجز میں موجود الفاظ کی بنیاد پر نتائج دیتے تھے۔ اگر آپ نے "apple" تلاش کیا تو ان کو نہیں پتا چلتا تھا کہ آپ فل کھوج رہے ہیں یا کمپیوٹر کمپنی۔
لیری کے ذہن میں ایک خیال آیا: "اگر ہم ویب پیجز کے درمیان لنکس (links) کو دیکھیں، تو کیا پتا چلے گا کہ کون سا پیج زیادہ اہم ہے؟"
Creation of PageRank Algorithm
لیری اور سرگے نے مل کر ایک الگورتھم بنایا جس کا نام انہوں نے "پیج رینک" (PageRank) رکھا - لیری کے نام پیج پر یوں بھی اور ویب "پیج" کی وجہ سے بھی۔
خیال: اگر ایک ویب پیج پر کئی دوسرے اہم پیجز لنک کر رہے ہیں، تو وہ پیج بھی اہم ہے۔ یہ ویب پر سائٹس کی "popularity" اور "relevance" کا ایک ریاضیاتی ماڈل تھا۔
اس پروجیکٹ کا نام انہوں نے "بیگ بول" (BackRub) رکھا - کیونکہ یہ "بیک لنکس" (پیچھے والے لنکس) کا جائزہ لیتا تھا۔
Server in the Room
انہوں نے سٹینفورڈ کے ڈورمیٹری میں کمپیوٹر پارٹس جمع کیے، پرانے کمپیوٹرز خریدے، اور ایک سرور بنایا۔ یہ سرور اتنا بڑا تھا کہ اس پر لکڑی کے تختے رکھ کر بیڈ بنایا جا سکتا تھا (اور انہوں نے ایسا ہی کیا)۔ یہ سرور سٹینفورڈ کے نیٹ ورک کو اتنا سست کر دیتا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان سے کہا: "اپنا کام کہیں اور کریں، ورنہ ہم آپ کو باہر نکال دیں گے"۔
Susan's Garage: The Place Where Google Was Born (1998)
September 1998: The Date That Made History
1997 تک بیگ بول کام کر رہا تھا اور سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ویب پیجز پر اچھی کارکردگی دکھا رہا تھا۔ لیکن لیری اور سرگے کو یونیورسٹی سے باہر جانا تھا۔
سوزن وجوسکی (Susan Wojcicki)، جو بعد میں یوٹیوب کی سی ای او بنیں، ان دنوں مینلو پارک میں ایک چار بیڈروم کا گھر کرایے پر لے رہی تھیں۔ انہیں کرایہ ادا کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اپنے گیراج (جو دراصل ایک گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ تھی) کو لیری اور سرگے کو $1,700 ماہانہ کرایے پر دے دیا۔
4 ستمبر 1998 کو، لیری اور سرگے نے اسی گیراج میں گوگل انکارپوریٹڈ (Google Inc.) کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔
How Did the Name Come About? From "Googol" to "Google"
لیری اور سرگے چاہتے تھے کہ ان کا سرچ انجن بہت بڑے اعداد کو ہینڈل کر سکے۔ انہیں ایک ریاضیاتی اصطلاح "گوگول" (Googol) پسند آئی، جو 1 کے بعد 100 زیرو (10^100) والا نمبر ہے۔
لیری نے ایک دوست سے، جو ان کا ایک آن لائن سرچ انجن کے ناموں پر غور کر رہے تھے، کو نام سجست کرنے کو کہا۔ اس دوست نے "Google" لکھ دیا (گوگول کی سپیلنگ غلط کرتے ہوئے)۔ لیری اور سرگے کو یہ نام پسند آ گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ Google.com ڈومین ابھی بھی دستیاب ہے اور 15 ستمبر 1998 کو انہوں نے یہ ڈومین خرید لیا۔
The First Check: When the Investor Believed (1998)
August 1998: Andy Bechtolsheim's Check
اگست 1998 میں، جب گوگل ابھی صرف ایک آئیڈیا تھا اور گیراج میں کام ہو رہا تھا، لیری اور سرگے سن مائیکرو سسٹمز (Sun Microsystems) کے بانی اینڈی بیکٹولشیم (Andy Bechtolsheim) سے ملے۔ وہ سٹینفورڈ کے ایک فارے اسٹینڈ پر کھڑے تھے۔ لیری اور سرگے نے اپنے لیپ ٹاپ پر گوگل چلایا اور بتایا کہ یہ کیسے کام کرتا ہے۔
اینڈی، جو ٹیکنالوجی کے ماہر تھے، فوراً سمجھ گئے کہ یہ کتنا بڑا ہے۔ انہوں نے بغیر کوئی کمپنی بنے، بغیر کوئی لیگل کاغذات دیکھے، ایک چیک لکھ دیا۔
چیک کی رقم: $100,000
چیک کس نام سے: Google Inc.
یہ چیک انہوں نے دو ہفتے پہلے ہی لکھ دیا تھا جبکہ گوگل انکارپوریٹڈ باقاعدہ طور پر 4 ستمبر کو بنا۔ لیکن یہ چیک ان کے عزم کو بڑھانے والا ثابت ہوا۔ اس چیک کے بعد، خاندان اور دوستوں سے مزید $900,000 جمع ہوئے، جن میں جیف بیزوس (Amazon کے بانی) اور ڈیوڈ سیلوٹو بھی شامل تھے۔
First Office and Rapid Growth (1999-2000)
1999: The First Real Office in Palo Alto
1999 تک گیراج چھوٹا پڑنے لگا۔ گوگل نے پیلو آلٹو میں ایک عمارت کرایے پر لی۔ فروری 1999 میں کلائنر پرکنز (Kleiner Perkins) اور سیکوئیا کیپٹل (Sequoia Capital) نے گوگل میں $25 ملین کی سرمایہ کاری کی۔ اگست 1999 میں گوگل نے اپنے پہلے ملازم کریگ سلورسٹائن کو بھرتی کیا، جو سرگے کے ہم جماعت تھے۔
2000: A Crucial Year
- اپریل 2000: گوگل نے ماؤنٹن ویو، کیلیفورنیا میں Googleplex میں منتقل ہونا شروع کیا۔
- جون 2000: Google AdWords لانچ ہوا، جس نے آمدنی کا راستہ بنایا۔
- Yahoo نے گوگل کا سرچ انجن استعمال کرنا شروع کیا۔
- گوگل روزانہ 18 ملین تلاشیاں ہینڈل کر رہا تھا۔
Eric Schmidt and "Adult Supervision" (2001)
2001: The Need for Mature Leadership
لیری اور سرگے نے محسوس کیا کہ انہیں ایک تجربہ کار سی ای او کی ضرورت ہے۔ مارچ 2001 میں ایریک شمڈٹ (Eric Schmidt) گوگل کے چیئرمین اور اگست 2001 میں سی ای او بنے۔ ایریک کا کام "بالغوں کی نگرانی" کرنا تھا، جبکہ لیری پروڈکٹس اور سرگے ٹیکنالوجی کے صدر رہے۔
Products That Changed the World
2004: Gmail - 1 GB Free Storage
1 اپریل 2004 کو گوگل نے جی میل لانچ کیا۔ لوگوں کو لگا کہ یہ اپریل فول کا مذاق ہے کیونکہ اس وقت ہاٹ میل اور یاہو صرف 2-4 MB دیتے تھے اور گوگل 1 GB दे رہا تھا۔
2004: IPO - Becoming a Public Company
19 اگست 2004 کو گوگل NASDAQ اسٹاک ایکسچینج میں درج ہوا۔ IPO قیمت $85 فی حصہ تھی، اور کمپنی کی قیمت $23 ارب ہو گئی، جس سے لیری اور سرگے ارب پتی بن گئے۔
2005: Acquisition of Android
جولائی 2005: گوگل نے صرف $50 ملین میں اینڈرائیڈ (Android) کو خریدا، جو بعد میں دنیا کی سب سے بڑی موبائل پلیٹ فارم بن گئی۔
2006: Acquisition of YouTube
9 اکتوبر 2006: گوگل نے یوٹیوب کو $1.65 ارب میں خریدا۔
2008: Google Chrome
2 ستمبر 2008: گوگل نے کروم (Chrome) براؤزر لانچ کیا جس نے انٹرنیٹ ایکسپلورر کو پیچھے چھوڑ دیا۔
Larry Page Returns as CEO (2011)
20 جنوری 2011 کو ایریک شمڈٹ نے استعفیٰ دیا اور لیری پیج دوبارہ سی ای او بنے۔ 2014 میں گوگل نے نیسٹ لیبز ($3.2 ارب) اور ڈیپ مائنڈ ($500 ملین) کو خریدا۔
Alphabet: An Extraordinary Transformation (2015)
August 10, 2015: Historic Announcement
لیری پیج اور سرگے برن نے اعلان کیا کہ گوگل بہت بڑا ہو گیا ہے۔ انہوں نے الفا بیٹ (Alphabet) نامی ایک ہولڈنگ کمپنی بنائی۔
- الفا بیٹ - ماں کمپنی (لیری پیج سی ای او، سرگے صدر)
- گوگل - ذیلی کمپنی (سندر پچائی سی ای او)
- دیگر کمپنیاں: Waymo، Verily، Calico، X Development
The Era of AI and Recent History (2016-2024)
2016: گوگل ہوم اور اسسٹنٹ کا آغاز۔
2019: 3 دسمبر کو سندر پچائی الفا بیٹ کے بھی سی ای او بن گئے کیونکہ لیری اور سرگے نے عہدے چھوڑ دیے۔
2023: فروری میں ChatGPT کے مقابلے میں بارد (Bard) لانچ کیا گیا، اور دسمبر میں زیادہ طاقتور جیمنائی (Gemini) متعارف کرایا گیا۔
2024: آج گوگل دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن، اینڈرائیڈ سب سے بڑا موبائل آپریٹنگ سسٹم اور یوٹیوب دوسرا سب سے بڑا سرچ انجن ہے۔
Larry Page and Sergey Brin: Where Are They Today?
لیری پیج اور سرگے برن دونوں الفا بیٹ کے بورڈ ممبر ہیں، ارب پتی ہیں، لیکن روزمرہ کے کام سے دور ہیں۔ لیری فلائینگ کارز (Kitty Hawk) پر کام کر رہے ہیں اور سرگے بڑے ہیلیئم بالون (LTA Research) پر کام کر رہے ہیں۔
Secrets of Google's Success
- پیج رینک الگورتھم: سائنس کو کاروبار میں بدلنا۔
- صارف کا تجربہ پہلے: ہوم پیج پر اشتہارات نہ لگانا۔
- 70-20-10 قاعدہ: 70% کور بزنس، 20% نزدیکی پروجیکٹس، 10% "moonshot" پروجیکٹس۔
- ڈیٹا پر مبنی فیصلے: ہر فیصلہ اعداد و شمار کی بنیاد پر۔
- ملازمین کی فلاح: فری کھانا، جیم، اور 20% "فری ٹائم"۔
Key Dates Summary
| واقعہ | تاریخ |
|---|---|
| لیری اور سرگے کی پہلی ملاقات | مارچ 1995 |
| Google.com ڈومین خریدا گیا | 15 ستمبر 1998 |
| گوگل انکارپوریٹڈ بنی | 4 ستمبر 1998 |
| IPO (عوامی کمپنی بنی) | 19 اگست 2004 |
| اینڈرائیڈ خریدا | 2005 |
| یوٹیوب خریدا | 2006 |
| الفا بیٹ کا اعلان | 10 اگست 2015 |
| سندر پچائی الفا بیٹ کے سی ای او | 4 دسمبر 2019 |
Summary
گوگل کی کہانی دو نوجوان طلباء کی کہانی ہے جنہوں نے ایک یونیورسٹی پروجیکٹ سے شروع کیا، ایک گیراج میں کمپنی بنائی، اور آج دنیا کی سب سے طاقتور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک کھڑی کر دی۔
یہ کہانی انوویشن، سرمایہ کاری، اور ڈیٹا کی طاقت کی کہانی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ، یہ کہانی ہے دو دوستوں کی جنہوں نے مل کر سوچا کہ دنیا کی معلومات کو ترتیب دیا جا سکتا ہے اور اسے ہر کسی کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکتا ہے۔ آج، جب آپ گوگل پر کچھ تلاش کرتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ سب کچھ سٹینفورڈ کے ایک ڈورمیٹری روم سے شروع ہوا تھا! 🌐🔍