Introduction
جیف بیزوس وہ شخص ہیں جنہوں نے ایک چھوٹے سے گیراج سے شروع ہونے والی کتابوں کی دکان کو دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی بنا دیا۔ وہ شخص جس نے انٹرنیٹ پر خریداری کا تصور بدل کر رکھ دیا۔ وہ شخص جو اب خلا میں انسانوں کو بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ آئیے ان کی زندگی کا تفصیلی سفر طے کرتے ہیں۔
Birth and Early Family Background
جیفری پریسٹن جورگنسن (بعد میں جیف بیزوس) 12 جنوری 1964 کو امریکہ کی ریاست نیو میکسیکو کے شہر البوکرکی میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ جیکلین گیز جورگنسن کی عمر صرف 17 سال تھی۔ وہ ابھی ہائی اسکول میں پڑھ رہی تھیں جب جیف کی پیدائش ہوئی۔ ان کے حیاتیاتی والد کا نام ٹیڈ جورگنسن تھا جو ایک سرکس میں ایک پہیے والی سائیکل چلانے والے فنکار تھے۔
جیف کے والدین کی شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی۔ جب جیف صرف 18 ماہ کے تھے تو ان کے والدین میں طلاق ہو گئی۔ ٹیڈ جورگنسن جیف کی زندگی سے باہر ہو گئے اور جیف نے انہیں کبھی نہیں جانا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2012 میں جب ایک مصنف نے ٹیڈ جورگنسن کو ڈھونڈ نکالا اور بتایا کہ آپ کا بیٹا ایمیزون کا مالک ہے تو ٹیڈ کو یہ بات معلوم ہی نہیں تھی۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں تھا کہ ان کا کوئی بیٹا تھا۔
جیف کی والدہ جیکلین نے کچھ سال بعد دوسری شادی کی۔ ان کے نئے شوہر کا نام میگوئیل بیزوس تھا جو کیوبا کے رہنے والے تھے اور 15 سال کی عمر میں تنہا امریکہ آئے تھے۔ میگوئیل بیزوس ایک محنتی اور ذہین انسان تھے۔ وہ امریکہ آئے تو انہیں انگریزی نہیں آتی تھی، جیب میں پیسے نہیں تھے اور کوئی جاننے والا نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے محنت کی، پڑھائی کی اور یونیورسٹی آف نیو میکسیکو سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔
جب جیف چار سال کے تھے تو میگوئیل نے ان کو قانونی طور پر گود لے لیا اور جیف کا نام جیفری پریسٹن بیزوس ہو گیا۔ میگوئیل نے جیف کو اپنا سگا بیٹا سمجھ کر پالا اور جیف بھی انہیں اپنا اصل باپ مانتے ہیں۔ جیف کہتے ہیں: "میرے والد میرے ہیرو ہیں۔ وہ ایک غیر ملکی بچے کی حیثیت سے امریکہ آئے اور انہوں نے اپنی زندگی بنائی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں"۔
میگوئیل بیزوس نے ایکسن موبل میں پیٹرولیم انجینئر کے طور پر کام کیا اور بعد میں ان کا تبادلہ ہیوسٹن، ٹیکساس ہو گیا۔ اس طرح پورا خاندان ٹیکساس منتقل ہو گیا۔ جیکلین اور میگوئیل کے مزید دو بچے ہوئے: کرسٹینا اور مارک جو جیف کی سوتیلی بہن اور بھائی ہیں۔
Grandfather's Influence: A Crucial Role
جیف بیزوس کی زندگی میں ان کے نانا لارنس پریسٹن گیز کا بہت گہرا اثر رہا۔ لارنس گیز ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ وہ امریکی ایٹمی توانائی کمیشن میں علاقائی ڈائریکٹر رہے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیکساس میں ایک بڑا رینچ (فارم) خریدا جہاں انہوں نے مویشی پالے۔
جیف ہر گرمی کی چھٹیوں میں اپنے نانا کے رینچ پر جاتے تھے۔ یہاں انہوں نے زندگی کے بہت سے اہم سبق سیکھے۔ نانا کے ساتھ مل کر انہوں نے:
- مویشیوں کی دیکھ بھال کرنا سیکھا
- ٹوٹی ہوئی مشینیں ٹھیک کرنا سیکھیں
- پائپ لائنیں بچھانا سیکھا
- ویلڈنگ کرنا سیکھی
- ٹریکٹر چلانا سیکھا
- اور سب سے اہم بات مسائل کو خود حل کرنا سیکھا
جیف کہتے ہیں کہ نانا کبھی کسی کو بلا کر کام نہیں کرواتے تھے۔ اگر کوئی چیز ٹوٹ جاتی تو خود ٹھیک کرتے۔ یہ "خود کر لو" والا رویہ جیف کی شخصیت کا حصہ بن گیا اور بعد میں ایمیزون کی ثقافت میں بھی نظر آیا۔
ایک واقعہ جیف نے کئی بار سنایا ہے جس نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ جب جیف دس سال کے تھے تو ایک دفعہ وہ نانا نانی کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ نانی سگریٹ پیتی تھیں اور جیف نے حال ہی میں کہیں پڑھا تھا کہ سگریٹ کا ہر کش زندگی سے دو منٹ کم کر دیتا ہے۔ جیف نے فوراً حساب لگایا اور کہا: "نانی، اس حساب سے آپ کی زندگی نو سال کم ہو چکی ہے!"
جیف کو لگا کہ نانی ان کی ذہانت کی تعریف کریں گی۔ لیکن نانی رونے لگیں۔ نانا نے گاڑی سڑک کے کنارے روکی، جیف کو باہر بلایا اور کہا: "جیف، ایک دن تم سمجھو گے کہ مہربان ہونا ذہین ہونے سے زیادہ مشکل ہے"۔
یہ سبق جیف بیزوس کبھی نہیں بھولے اور انہوں نے اسے زندگی بھر یاد رکھا۔ وہ کہتے ہیں: "ذہانت ایک تحفہ ہے لیکن مہربانی ایک انتخاب ہے"۔
Educational Journey
Early Education
جیف بیزوس بچپن سے ہی غیر معمولی ذہین تھے۔ جب وہ مونٹیسوری اسکول میں تھے تو اساتذہ کو ان میں ایک عجیب بات نظر آئی۔ جب کوئی کام شروع ہوتا تو جیف اس میں اتنے مگن ہو جاتے کہ انہیں کسی اور کام پر منتقل کرنا انتہائی مشکل تھا۔ اساتذہ کو انہیں کرسی سمیت اٹھا کر دوسری جگہ لے جانا پڑتا تھا۔ یہ شدید توجہ کی صلاحیت بعد میں ان کی کامیابی کا ایک اہم راز بنی۔
River Oaks Elementary School
ہیوسٹن میں جیف نے ریور اوکس ایلیمنٹری اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں ان کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی اور بڑھی۔ اسکول میں ایک خصوصی پروگرام تھا جہاں ذہین بچوں کو اضافی مشکل کام دیے جاتے تھے۔ جیف اس پروگرام میں نمایاں تھے۔
Move to Miami and High School
جب جیف کے والد کا تبادلہ فلوریڈا ہوا تو خاندان میامی منتقل ہو گیا۔ یہاں جیف نے میامی پالمیٹو سینئر ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ یہ اسکول اپنے تعلیمی معیار کے لیے مشہور تھا۔
ہائی اسکول میں جیف نے کئی شاندار کارنامے انجام دیے:
- وہ ویلیڈکٹوریئن (سب سے زیادہ نمبر لینے والے طالب علم) رہے
- انہوں نے نیشنل میرٹ اسکالر کا اعزاز حاصل کیا
- سلور نائٹ ایوارڈ جیتا جو فلوریڈا کا اعلیٰ ترین تعلیمی اعزاز ہے
- بیسٹ سائنس اسٹوڈنٹ اور بیسٹ میتھ اسٹوڈنٹ کے ایوارڈ جیتے
جیف بیزوس نے ہائی اسکول میں ایک تقریر کی جس میں انہوں نے خلا میں کالونیاں بسانے کے خواب کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں انسانوں کو زمین سے باہر رہنا ہوگا۔ یہ خواب انہوں نے 50 سال بعد بلو اوریجن کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش شروع کی۔
First Business: The Dream Institute
ہائی اسکول کی گرمیوں میں جیف نے اپنی گرل فرینڈ (جو بعد میں ان کی پہلی بیوی بنیں) کے ساتھ مل کر "ڈریم انسٹیٹیوٹ" نامی ایک سمر کیمپ شروع کیا۔ یہ چوتھی سے چھٹی جماعت کے بچوں کے لیے تھا جہاں انہیں تخلیقی سوچ اور سائنس سکھائی جاتی تھی۔ ہر بچے سے 600 ڈالر فیس لی جاتی تھی۔ یہ جیف کا پہلا حقیقی کاروباری تجربہ تھا۔
Princeton University
1982 میں ہائی اسکول سے گریجویشن کے بعد جیف بیزوس نے پرنسٹن یونیورسٹی میں داخلہ لیا جو امریکہ کی سب سے مشہور اور قدیم یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ شروع میں ان کا ارادہ طبیعیات (Physics) پڑھنے کا تھا کیونکہ وہ نظریاتی طبیعیات میں دلچسپی رکھتے تھے۔
لیکن پرنسٹن میں ایک اہم واقعہ ہوا جس نے ان کی زندگی کی سمت بدل دی۔ ایک مشکل طبیعیات کا مسئلہ انہیں اور ان کے روم میٹ کو گھنٹوں سوچنے کے باوجود حل نہیں ہو رہا تھا۔ آخرکار ایک سری لنکن ہم جماعت نے وہ مسئلہ چند منٹوں میں حل کر دیا۔ اس لمحے جیف کو احساس ہوا کہ وہ دنیا کے بہترین طبیعیات دان نہیں بن سکتے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی توانائی ایسے شعبے میں لگائیں گے جہاں وہ بہترین ہو سکتے ہیں۔
جیف نے اپنا مضمون کمپیوٹر سائنس اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں تبدیل کر لیا۔ 1986 میں انہوں نے سُما کم لاؤڈے (اعلیٰ ترین اعزازات کے ساتھ) ڈگری حاصل کی۔ وہ فائی بیٹا کاپا (قدیم ترین اعزازی تنظیم) کے رکن بھی بنے۔
Early Career (1986-1994)
پرنسٹن سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جیف بیزوس کو کئی بڑی کمپنیوں سے نوکری کی پیشکشیں آئیں۔ ان میں انٹیل، بیل لیبز اور دیگر مشہور کمپنیاں شامل تھیں۔ لیکن جیف نے ایک چھوٹی سی اسٹارٹ اپ کمپنی "فٹیل" کا انتخاب کیا جو ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں کام کرتی تھی۔
Fitel
فٹیل میں جیف نے بین الاقوامی تجارت کے لیے کمپیوٹر نیٹ ورک بنانے پر کام کیا۔ دو سال میں وہ ترقی کر کے ڈائریکٹر آف کسٹمر سروس بن گئے۔ یہاں انہوں نے ٹیکنالوجی اور کاروبار کو جوڑنا سیکھا۔
Bankers Trust
1988 میں جیف بینکرز ٹرسٹ میں شامل ہوئے جو ایک بڑا سرمایہ کاری بینک تھا۔ یہاں انہوں نے کمپیوٹر سسٹمز پر کام کیا۔ صرف 26 سال کی عمر میں وہ بینک کے سب سے کم عمر نائب صدر بن گئے۔
D.E. Shaw
1990 میں جیف کو ایک ہیڈ ہنٹر نے ڈی ای شا نامی ہیج فنڈ کے بارے میں بتایا۔ یہ فنڈ ڈیوڈ ای شا نے قائم کیا تھا جو ایک کمپیوٹر سائنسدان تھے۔ ڈی ای شا اس وقت وال اسٹریٹ کی سب سے جدید کمپنیوں میں سے ایک تھی جو کوانٹیٹیٹو ٹریڈنگ (ریاضیاتی ماڈلز کی مدد سے سرمایہ کاری) کرتی تھی۔
جیف بیزوس نے ڈی ای شا میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ صرف چار سالوں میں وہ کمپنی کے سینئر نائب صدر بن گئے۔ انہیں سالانہ لاکھوں ڈالر کی تنخواہ اور بونس ملتا تھا۔ وہ کمپنی میں چوتھے نمبر کے سب سے اہم شخص تھے۔
لیکن اس دوران کچھ ایسا ہوا جس نے جیف کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
How the Idea for Amazon Came About?
1994 میں جیف بیزوس کو ایک حیران کن اعداد و شمار پر نظر پڑی۔ انہوں نے پڑھا کہ انٹرنیٹ کا استعمال سالانہ 2300 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ یہ نمبر ان کے ذہن میں گھر کر گیا۔ انہوں نے سوچا کہ جب کوئی چیز اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہو تو اس میں ضرور بڑے مواقع چھپے ہوں گے۔
جیف نے اپنے باس ڈیوڈ شا سے بات کی اور کہا کہ وہ انٹرنیٹ پر کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ ڈیوڈ نے کہا کہ یہ ایک اچھا خیال ہے لیکن ایسے لوگوں کے لیے جن کے پاس پہلے سے اچھی نوکری نہیں ہے۔
جیف نے 20 مختلف مصنوعات کی فہرست بنائی جو انٹرنیٹ پر بیچی جا سکتی تھیں:
- کپڑے
- کمپیوٹر سافٹ ویئر
- آفس سپلائیز
- موسیقی
- ویڈیوز
- کتابیں
آخرکار انہوں نے کتابوں کا انتخاب کیا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں:
- بہت زیادہ اقسام: دنیا میں 30 لاکھ سے زیادہ کتابیں چھپ چکی تھیں۔ کوئی ایک دکان اتنی کتابیں نہیں رکھ سکتی لیکن انٹرنیٹ پر یہ ممکن تھا۔
- ایک جیسی شکل: ہر کتاب کی شکل ایک جیسی ہوتی ہے (مستطیل) جس سے پیکنگ اور شپنگ آسان ہے۔
- کم قیمت: کتابیں نسبتاً سستی ہیں جس سے نئے گاہک خریدنے میں نہیں ہچکچاتے۔
- معیاری مصنوعات: "ہیری پوٹر" کی کتاب ہر دکان میں ایک جیسی ہوتی ہے، کوئی فرق نہیں ہوتا۔
The Biggest Decision of His Life
اب جیف بیزوس کے سامنے ایک بہت مشکل فیصلہ تھا۔ ایک طرف ڈی ای شا میں آرام دہ، اعلیٰ تنخواہ والی نوکری تھی اور دوسری طرف ایک غیر یقینی خواب۔
جیف نے ایک فریم ورک استعمال کیا جسے وہ "ریگریٹ منیمائزیشن فریم ورک" کہتے ہیں۔ انہوں نے خود سے پوچھا: "جب میں 80 سال کا ہوں گا اور اپنی زندگی پر نظر ڈالوں گا تو کس بات پر پچھتاؤں گا؟"
جواب واضح تھا۔ وہ اس بات پر پچھتائیں گے کہ انہوں نے کوشش نہیں کی۔ اگر کوشش کر کے ناکام ہوئے تو کم از کم یہ اطمینان ہوگا کہ انہوں نے کوشش تو کی۔
جیف کہتے ہیں: "میں جانتا تھا کہ اگر میں نے کوشش نہیں کی تو 80 سال کی عمر میں مجھے پچھتاوا ہوگا۔ لیکن اگر میں نے کوشش کی اور ناکام ہوا تو پچھتاوا نہیں ہوگا"۔
جیف نے نوکری چھوڑ دی۔
Founding Amazon: Starting from a Garage
جولائی 1994 میں جیف بیزوس اور ان کی بیوی میکنزی نے ٹیکساس سے سیئٹل، واشنگٹن کی طرف سفر شروع کیا۔ سیئٹل کا انتخاب کئی وجوہات سے کیا گیا:
- ٹیکنالوجی ٹیلنٹ: مائیکروسافٹ سیئٹل کے قریب تھی جس کی وجہ سے اچھے انجینئر دستیاب تھے۔
- کتابوں کا گودام: ایک بڑا کتابوں کا ڈسٹریبیوٹر سیئٹل میں تھا۔
- کم آبادی: واشنگٹن کی کم آبادی کی وجہ سے کم ریاستوں میں سیلز ٹیکس دینا پڑتا۔
جیف گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اپنا بزنس پلان لکھتے رہے جبکہ میکنزی گاڑی چلا رہی تھیں۔ سفر کے دوران انہوں نے ممکنہ سرمایہ کاروں کو فون بھی کیے۔
سیئٹل پہنچ کر انہوں نے ایک کرایے کا مکان لیا۔ مکان کے گیراج کو دفتر میں تبدیل کیا گیا۔ دیواروں پر لکڑی کے شیلف لگائے گئے۔ پرانے دروازوں کو ڈیسک بنایا گیا (یہ روایت آج بھی ایمیزون میں ہے جہاں سستے فرنیچر استعمال کیے جاتے ہیں)۔
Choosing the Name
جیف نے کئی نام سوچے:
- Cadabra (جادو کے لفظ ابراکڈابرا سے) - لیکن یہ "کڈیور" (لاش) جیسا لگتا تھا
- Relentless (لگاتار) - جو آج بھی relentless.com ٹائپ کرنے سے ایمیزون پر لے جاتا ہے
آخرکار "ایمیزون" نام رکھا گیا جو دنیا کے سب سے بڑے دریا ایمیزون کے نام پر تھا۔ جیف چاہتے تھے کہ ان کی کمپنی بھی دنیا کی سب سے بڑی ہو۔ اس کے علاوہ نام "A" سے شروع ہوتا تھا جس سے ڈائریکٹریوں میں پہلے نظر آتا۔
Initial Investment
جیف کے والدین میگوئیل اور جیکی بیزوس نے اپنی ساری جمع پونجی، تقریباً $300,000 (تین لاکھ ڈالر) ایمیزون میں لگا دیے۔ جیف نے انہیں خبردار کیا تھا کہ 70 فیصد امکان ہے کہ یہ پیسے ڈوب جائیں گے۔ لیکن والدین نے کہا: "ہم پیسوں پر نہیں، تم پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں"۔
آج وہ $300,000 اربوں ڈالر کی مالیت رکھتے ہیں۔ جیف کے والدین ایمیزون کی بدولت ارب پتی بن گئے۔
The Launch of Amazon: 1995
16 جولائی 1995 کو ایمیزون ڈاٹ کام باضابطہ طور پر شروع ہوا۔ پہلے ہفتے میں بغیر کسی اشتہار کے $12,000 کے آرڈر آئے۔ پہلے مہینے میں تمام 50 امریکی ریاستوں اور 45 ممالک سے آرڈر آئے۔
شروع میں حالات بہت مشکل تھے:
- جیف خود کتابیں پیک کرتے تھے
- وہ رات کو اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر کام کرتے تھے
- ان کے گھٹنے اتنے دکھنے لگے کہ انہوں نے نی پیڈز (گھٹنوں کی حفاظت) خریدے
- پھر انہیں خیال آیا: "ہمیں میزیں خریدنی چاہیئیں!"
ایمیزون کا پہلا سلوگن تھا: "Earth's Biggest Bookstore" (زمین کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان)۔
Amazon's Journey of Growth
1996-1997: Rapid Growth
1996 میں ایمیزون کی فروخت $15.7 ملین تک پہنچ گئی۔ 1997 میں کمپنی اسٹاک مارکیٹ میں درج ہوئی۔ IPO کی قیمت $18 فی حصص تھی۔ کمپنی نے $54 ملین اکٹھے کیے۔
جیف بیزوس نے 1997 کے سالانہ خط میں ایک اہم بات لکھی جو آج بھی ایمیزون کی بنیاد ہے: "یہ پہلا دن ہے" (It's Day 1)
جیف نے لکھا کہ ہمیں ہمیشہ ایسے سوچنا چاہیے جیسے یہ پہلا دن ہو۔ جب کمپنی "دوسرے دن" میں داخل ہوتی ہے تو جمود آ جاتا ہے، پھر بیماری، پھر موت۔ اسی لیے ہمیشہ "پہلا دن" رہنا چاہیے۔ آج بھی ایمیزون کے ہیڈکوارٹر کی عمارت کا نام "ڈے ون" ہے۔
1998-1999: New Products
1998 میں ایمیزون نے کتابوں کے علاوہ موسیقی اور DVDs بیچنا شروع کیں۔ 1999 میں کھلونے، الیکٹرانکس اور دیگر مصنوعات شامل ہوئیں۔ کمپنی کا نیا سلوگن بنا: "Earth's Biggest Selection" (زمین کا سب سے بڑا انتخاب)۔
2000-2001: The Dot-Com Bubble
2000 میں جب ڈاٹ کام کا بلبلہ پھوٹا تو بہت سی انٹرنیٹ کمپنیاں تباہ ہو گئیں۔ ایمیزون کے حصص کی قیمت $107 سے گر کر $7 رہ گئی۔ تقریباً 93 فیصد کمی۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ ایمیزون بھی ختم ہو جائے گی۔
لیکن جیف بیزوس نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اخراجات کم کیے، غیر ضروری منصوبے بند کیے اور بنیادی کاروبار پر توجہ دی۔ 2001 میں ایمیزون نے پہلی بار منافع کمایا (صرف $5 ملین، لیکن منافع تھا)۔
Major Inventions and Services of Amazon
1. ایمیزون پرائم (2005): سالانہ $79 میں گاہکوں کو مفت دو دن کی ڈیلیوری ملتی تھی۔ آج ایمیزون پرائم کے 200 ملین سے زیادہ ممبرز ہیں۔
2. ایمیزون ویب سروسز - AWS (2006): ایمیزون نے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی خدمات شروع کیں جو آج دنیا کی سب سے بڑی کلاؤڈ کمپنی ہے۔
3. کنڈل (2007): ای ریڈر جس نے کتابوں کی صنعت میں ڈیجیٹل انقلاب برپا کیا۔
4. ایمیزون ایکو اور الیکسا (2014): آواز سے چلنے والی ٹیکنالوجی جس نے کروڑوں گھروں میں جگہ بنائی۔
5. ہول فوڈز مارکیٹ کی خریداری (2017): نامیاتی خوراک کی زنجیر کو $13.7 ارب میں خریدا گیا۔
6. ایمیزون گو (2018): بغیر کیشیئر والے اسٹورز کا آغاز۔
7. پرائم ویڈیو اور اسٹوڈیوز: نیٹ فلکس کے مدمقابل اسٹریمنگ سروس جس نے کئی آسکر اور ایمی ایوارڈز جیتے ہیں۔
Blue Origin: The Space Dream
جیف بیزوس کو بچپن سے خلا سے دلچسپی تھی۔ 2000 میں انہوں نے بلو اوریجن نامی خلائی کمپنی قائم کی۔ کمپنی کا نام زمین کی طرف اشارہ ہے جو خلا سے نیلی نظر آتی ہے۔ بلو اوریجن کا مقصد خلائی سفر کو سستا اور عام بنانا ہے۔
نیو شیپرڈ: بلو اوریجن نے یہ راکٹ بنایا اور 20 جولائی 2021 کو جیف بیزوس خود اس میں بیٹھ کر خلا گئے۔
نیو گلین اور بلو مون: بڑے راکٹ اور ناسا کے ساتھ مل کر چاند پر جانے کے منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔ جیف بیزوس کا خواب ہے کہ ایک دن لاکھوں انسان خلا میں رہیں اور کام کریں۔
Acquisition of The Washington Post (2013)
2013 میں جیف بیزوس نے ذاتی طور پر واشنگٹن پوسٹ اخبار $250 ملین میں خریدا۔ انہوں نے اخبار کو ڈیجیٹل دور میں ڈھالا اور اسے دوبارہ منافع بخش بنایا۔
Jeff Bezos's Other Investments and Companies
جیف نے بیزوس ایکسپیڈیشنز کے ذریعے گوگل، ٹویٹر، ایئر بی این بی، اوبر، آلٹوس لیبز سمیت درجنوں کمپنیوں میں ابتدائی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس دنیا بھر میں مہنگی ترین جائیدادیں اور $500 ملین کی "کورو" نامی سپر یاٹ بھی موجود ہے۔
Personal Life
جیف بیزوس نے 1993 میں میکنزی ٹٹل سے شادی کی۔ ان کے چار بچے ہیں۔ 2019 میں ان کی طلاق ہو گئی جو تاریخ کی سب سے مہنگی طلاق تھی جس میں میکنزی کو $35 ارب کے حصص ملے۔ اب جیف بیزوس کی موجودہ پارٹنر لارین سانچیز ہیں۔
Retirement from Amazon
5 جولائی 2021 کو جیف بیزوس نے ایمیزون کے سی ای او کے عہدے سے سبکدوش ہو کر ذمہ داری اینڈی جیسی کو سونپی۔ اب وہ ایمیزون کے ایگزیکٹو چیئرمین ہیں اور بلو اوریجن اور بیزوس ارتھ فنڈ پر توجہ دے رہے ہیں۔
The Journey of Wealth
- 1994: نوکری چھوڑی، ذاتی جمع پونجی چند لاکھ ڈالر
- 1997: ایمیزون IPO، دولت $12 ملین
- 1999: دولت $10 ارب
- 2018: دولت $150 ارب (دنیا کے امیر ترین شخص)
- 2020: دولت $200 ارب سے تجاوز
- 2024: تقریباً $200 ارب کے ساتھ سرفہرست امیر ترین افراد میں شامل
Philanthropy and Social Work
جیف بیزوس نے بیزوس ارتھ فنڈ (2020) کے لیے $10 ارب مختص کیے تاکہ ماحولیاتی تبدیلی سے لڑا جا سکے۔ اس کے علاوہ ڈے ون فنڈ اور گیونگ پلیج کے ذریعے اپنی دولت کا بڑا حصہ سماجی بہتری کے لیے وقف کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
Secrets of Jeff Bezos's Success
1. گاہک پہلے (Customer Obsession): مقابلے پر نظر رکھو لیکن گاہک پر توجہ دو۔
2. طویل مدتی سوچ: آج کا نقصان کل کا بڑا منافع بن سکتا ہے۔
3. تیز فیصلے: واپس ہونے والے فیصلوں میں دیر مت لگاؤ۔
4. ناکامی کو قبول کرنا: ایک بڑی کامیابی دس ناکامیوں کا خسارہ پورا کر دیتی ہے۔
5. دو پیزا ٹیمیں: چھوٹی ٹیمیں تیز اور زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔
6. لکھنا بولنے سے بہتر ہے: ایمیزون میں پاور پوائنٹ کی جگہ تحریری میمو کا استعمال۔
Famous Quotes by Jeff Bezos
- "اگر آپ ہر پانچ سال میں دوگنے نہیں ہو رہے تو آپ مر رہے ہیں"
- "آپ کا برانڈ وہ ہے جو لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں جب آپ کمرے میں نہیں ہوتے"
- "شکایت کوئی حکمت عملی نہیں ہے"
- "ہم اپنے حریفوں سے نہیں ڈرتے بلکہ اپنے گاہکوں سے ڈرتے ہیں"
- "اپنے جذبے کے پیچھے بھاگو، نہ کہ اپنے CV کے پیچھے"
Controversies and Criticism
ایمیزون پر گودام کے ملازمین سے سخت کام لینے، کم ٹیکس دینے، اور چھوٹے کاروباروں کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
Jeff Bezos Today and the Future
آج جیف بیزوس اپنا زیادہ تر وقت بلو اوریجن کی خلا میں ترقی اور بیزوس ارتھ فنڈ کے ذریعے زمین کی بہتری میں گزار رہے ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ مستقبل کی بھاری صنعتیں خلا میں منتقل ہو جائیں۔
Summary
جیف بیزوس کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ خوابوں کا پیچھا کرنا، ناکامیوں سے نہ ڈرنا، اور گاہک کو ہمیشہ ترجیح دینا ہی عظیم کامیابی کی کنجی ہے۔ ایک گیراج سے شروع ہونے والا سفر آج خلا کی وسعتوں تک پھیل چکا ہے۔