Steve Jobs Biography
Biographies

Steve Jobs: The Complete Story of the Apple Founder & Digital Pioneer

March 24, 2026 By Widbeat

Introduction

سٹیو جابز وہ شخص تھے جنہوں نے دنیا کو نئے انداز سے سوچنا سکھایا۔ انہوں نے کمپیوٹر کو ہر گھر تک پہنچایا، موسیقی سننے کا انداز بدلا، فون کو سمارٹ بنایا اور اینیمیشن فلموں میں انقلاب برپا کیا۔ وہ صرف ایک کاروباری نہیں تھے بلکہ ایک فنکار، ایک خوابوں کے سوداگر اور ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے "مختلف سوچنے" کو اپنا نعرہ بنایا۔

"جو لوگ اتنے پاگل ہوتے ہیں کہ سوچتے ہیں وہ دنیا بدل سکتے ہیں، وہی لوگ دنیا بدلتے ہیں" - یہ ایپل کا مشہور اشتہار تھا لیکن یہ الفاظ سٹیو جابز کی زندگی کا خلاصہ ہیں۔

Birth and Adoption Story

Biological Parents

سٹیون پال جابز 24 فروری 1955 کو امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں پیدا ہوئے۔ لیکن ان کی پیدائش کی کہانی ایک المیے سے شروع ہوتی ہے۔

ان کی حیاتیاتی والدہ کا نام جوآن کیرول شیبل (Joanne Carole Schieble) تھا جو ایک امریکی نژاد لڑکی تھیں۔ ان کے حیاتیاتی والد کا نام عبدالفتاح جندالی (Abdulfattah Jandali) تھا جو شام (سیریا) سے آئے ہوئے ایک مسلمان نوجوان تھے۔ دونوں یونیورسٹی آف وسکانسن میں طالب علم تھے جہاں ان کی ملاقات ہوئی۔

جوآن اور عبدالفتاح ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جوآن کے والد آرتھر شیبل ایک سخت گیر جرمن نژاد امریکی تھے جو کبھی بھی اپنی بیٹی کی شادی ایک مسلمان سے نہیں ہونے دیتے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر جوآن نے عبدالفتاح سے شادی کی تو وہ اسے وراثت سے محروم کر دیں گے۔

جوآن حاملہ ہو گئیں لیکن شادی نہیں کر سکتی تھیں۔ اس زمانے میں غیر شادی شدہ ماں ہونا سماجی طور پر بہت بڑا داغ تھا۔ جوآن نے فیصلہ کیا کہ وہ بچے کو گود دے دیں گی۔

The Condition That Changed Everything

جوآن نے ایک شرط رکھی: جو بھی بچے کو گود لے، وہ کالج پڑھا ہوا ہونا چاہیے۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے بچے کو اچھی تعلیم ملے۔ شروع میں ایک وکیل اور اس کی بیوی نے بچے کو گود لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن جب سٹیو پیدا ہوئے تو اس جوڑے نے آخری لمحے میں انکار کر دیا کیونکہ وہ لڑکی چاہتے تھے، لڑکا نہیں۔

Paul and Clara Jobs: The True Parents

آخرکار پال جابز اور کلارا جابز نے سٹیو کو گود لیا۔ یہ ایک عام درمیانے طبقے کا جوڑا تھا۔

جب جوآن کو پتا چلا کہ پال اور کلارا کالج پڑھے ہوئے نہیں ہیں تو انہوں نے گود دینے سے انکار کر دیا۔ کئی ہفتوں کی بات چیت کے بعد انہوں نے ایک شرط پر رضامندی دی: پال اور کلارا کو قانونی طور پر وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ اس بچے کو کالج ضرور پڑھائیں گے۔ پال اور کلارا نے یہ وعدہ کیا اور اسے پورا کرنے کے لیے اپنی ساری زندگی محنت کی۔

Choosing the Name

گود لینے والے والدین نے بچے کا نام سٹیون پال جابز رکھا۔ "پال" ان کے والد کے نام پر تھا۔

Childhood and Early Life

Childhood in Mountain View

پال اور کلارا جابز نے ماؤنٹین ویو، کیلیفورنیا میں ایک چھوٹا سا گھر خریدا۔ یہ علاقہ بعد میں سلیکون ویلی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس وقت یہاں بہت سی الیکٹرانکس کمپنیاں تھیں اور انجینئرز کی ایک بڑی تعداد رہتی تھی۔

Training from Father

پال جابز نے اپنے بیٹے کو بہت کچھ سکھایا:

1. چیزیں بنانا:
پال کے گیراج میں ایک ورکشاپ تھی جہاں وہ گاڑیاں اور فرنیچر بناتے تھے۔ چھوٹے سٹیو گھنٹوں یہاں بیٹھ کر باپ کو کام کرتے دیکھتے۔ پال نے ایک بار سٹیو کو ایک اہم سبق سکھایا جب وہ ایک کابینٹ بنا رہے تھے۔ پال نے کہا: "ایک اچھا کاریگر اچھی لکڑی استعمال کرتا ہے چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے"۔ یہ سبق سٹیو کی زندگی کا حصہ بن گیا۔

2. پرانی چیزوں کو نیا بنانا:
پال پرانی گاڑیاں خریدتے، ٹھیک کرتے اور منافع پر بیچتے۔ سٹیو نے یہاں سے سیکھا کہ کس طرح سستی چیزوں سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔

3. سودے بازی:
پال گاڑیوں کے پرزے خریدنے جاتے تو سٹیو کو ساتھ لے جاتے۔ یہاں سٹیو نے سودے بازی سیکھی۔

Mother's Love

کلارا جابز ایک نرم مزاج خاتون تھیں۔ انہوں نے سٹیو کو پڑھنا سکھایا، اسکول جانے سے پہلے ہی۔ جب سٹیو اسکول گئے تو وہ پہلے سے پڑھنا جانتے تھے۔

Knowing About Adoption

سٹیو کو بہت چھوٹی عمر میں پتا چل گیا کہ وہ گود لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بعد میں بتایا کہ پڑوس کی ایک لڑکی نے انہیں بتایا: "تمہارے اصلی والدین نے تمہیں نہیں چاہا اس لیے پھینک دیا۔" چھوٹا سٹیو روتا ہوا گھر گیا۔ پال اور کلارا نے اسے گود میں لیا اور کہا: "نہیں بیٹا، تم غلط سمجھ رہے ہو۔ تمہیں کسی نے نہیں پھینکا۔ ہم نے تمہیں خاص طور پر چنا۔ تم ہمارے لیے خاص ہو"۔

یہ بات سٹیو کے ذہن میں بیٹھ گئی کہ وہ "خاص" ہیں۔ بعد میں انہوں نے کہا: "گود لیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو نہیں چاہا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو دوہری محبت ملی - جنہوں نے آپ کو جنم دیا ان کی اور جنہوں نے آپ کو پالا ان کی"۔

Younger Sister

بعد میں پال اور کلارا نے ایک اور بچی کو گود لیا۔ اس کا نام پیٹی جابز رکھا گیا۔ پیٹی سٹیو سے دو سال چھوٹی تھیں۔

School Life: A Difficult Journey

Monta Loma Elementary School

سٹیو جابز کا اسکول کا تجربہ بہت مشکل تھا۔ وہ ایک ذہین بچے تھے لیکن اسکول کا نظام ان کے لیے موزوں نہیں تھا۔ وہ اسکول میں بور ہوتے تھے، کلاس میں شرارتیں کرتے تھے اور اساتذہ کی بات نہیں مانتے تھے۔ ایک بار انہوں نے کلاس میں سانپ چھوڑ دیا اور ایک بار ٹیچر کی کرسی کے نیچے پٹاخے لگا دیے۔

The Teacher Who Changed Everything

چوتھی جماعت میں سٹیو کو ایک نئی ٹیچر ملی: امی ہل۔ انہوں نے سمجھا کہ سٹیو شرارتی نہیں بلکہ بور ہیں۔ انہوں نے سٹیو کو چیلنج دیے اور انعامات کا لالچ دے کر پڑھائی پر لگایا۔ سٹیو کہتے ہیں: "امی ہل نے میری زندگی بچا لی۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو میں شاید جیل میں ہوتا"۔

Crittenden Middle School and Moving

مڈل اسکول کا تجربہ بہت برا رہا جہاں غنڈہ گردی عام تھی۔ سٹیو نے اسکول جانے سے انکار کر دیا۔ ان کے والدین نے بڑی قربانی دے کر اپنا گھر بیچ کر لاس الٹوس میں نیا گھر خریدا (2066 کرسٹ ڈرائیو) تاکہ سٹیو بہتر اسکول جا سکیں۔ یہیں بعد میں ایپل کمپنی کی بنیاد رکھی گئی۔

Homestead High School

یہاں سٹیو کی دلچسپی الیکٹرانکس میں بڑھی۔ اسکول کے الیکٹرانکس کلب میں انہوں نے پہلی بار کمپیوٹر دیکھا اور اس سے دلچسپی لینا شروع کی۔

Meeting Steve Wozniak: A Life-Changing Friendship

First Meeting (1969)

1969 میں سٹیو جابز کی ملاقات سٹیو وازنیاک (Steve Wozniak) سے ہوئی۔ وازنیاک ان سے پانچ سال بڑے اور ایک الیکٹرانکس جینیئس تھے۔ دونوں کی ملاقات ایک مشترک دوست بل فرنانڈیز کے ذریعے ہوئی اور دونوں فوراً دوست بن گئے۔

Blue Box: First Joint Project (1971)

1971 میں وازنیاک نے ایک "بلیو باکس" بنایا جس سے مفت میں دنیا بھر میں فون کیے جا سکتے تھے۔ سٹیو جابز نے اسے کاروباری موقع کے طور پر دیکھا اور اسے $150 فی یونٹ بیچنا شروع کیا۔ انہوں نے کافی پیسے کمائے لیکن غیر قانونی ہونے کی وجہ سے بعد میں اسے بند کر دیا۔

سٹیو جابز نے بعد میں کہا: "اگر بلیو باکس نہ ہوتا تو ایپل نہ ہوتا۔ بلیو باکس سے ہمیں یقین ہو گیا کہ ہم کچھ بنا سکتے ہیں جو دنیا کو کنٹرول کرنے والی بڑی کمپنیوں کو چیلنج کر سکتی ہے"۔

College Experience: A Brief Journey

Enrolling in Reed College (1972)

1972 میں سٹیو نے مہنگے ریڈ کالج (اوریگون) میں داخلہ لیا۔ والدین نے اپنی ساری بچت لگا دی۔

The Decision to Drop Out

صرف چھ ماہ بعد انہوں نے کالج چھوڑ دیا کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ ان کے والدین کی ساری بچت ضائع ہو رہی ہے اور ان کی زندگی کی کوئی واضح سمت نہیں ہے۔

Life After Dropping Out

انہوں نے باقاعدہ پڑھائی چھوڑ دی لیکن اگلے 18 ماہ کیمپس میں رہے۔ وہ دوستوں کے کمروں میں فرش پر سوتے، کوکا کولا کی بوتلیں بیچ کر پیسے کماتے اور ہری کرشنا مندر میں مفت کھانا کھاتے۔

Calligraphy Class: A Life-Changing Decision

اسی دوران انہوں نے ایک کیلیگرافی (خوشخطی) کی کلاس لی۔ دس سال بعد جب وہ میکنٹوش بنا رہے تھے تو یہ علم کام آیا اور میک دنیا کا پہلا کمپیوٹر بنا جس میں خوبصورت فونٹس تھے۔ سٹیو کا مشہور قول: "آپ آگے دیکھتے ہوئے نقطے نہیں جوڑ سکتے۔ آپ صرف پیچھے مڑ کر دیکھیں تو نقطے جڑے نظر آتے ہیں"۔

Journey to India: Spiritual Quest (1974)

1974 میں سٹیو روحانی علم کی تلاش میں ہندوستان گئے۔ سفر کا خرچ نکالنے کے لیے انہوں نے اٹاری (Atari) میں کام کیا۔

ہندوستان میں وہ نیم کرولی بابا سے ملنا چاہتے تھے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی بابا جی کا انتقال ہو چکا تھا۔ سات ماہ تک انہوں نے ہندوستان کا سفر کیا، میڈیٹیشن سیکھی اور غربت دیکھی۔

واپسی پر ان کی زندگی بدل چکی تھی۔ انہوں نے سادگی، وجدان (Intuition) اور تجربے کی اہمیت سیکھی جو بعد میں ان کی پروڈکٹس کا حصہ بنی۔

Zen Buddhism (1974-1976)

ہندوستان سے واپسی کے بعد سٹیو نے زین بدھ مت کی طرف رجوع کیا۔ ان کے زین گرو کوبن چینو اوٹوگاوا تھے۔ زین کے فلسفے نے ایپل پر گہرا اثر ڈالا، خاص طور پر سادگی، توجہ (مائنڈ فلنیس) اور کمال پسندی کے حوالے سے۔

ایک وقت ایسا بھی آیا جب سٹیو نے سنیاسی بننے کا سوچا لیکن ان کے گرو نے مشورہ دیا کہ وہ دنیا میں رہ کر بھی روحانی رہ سکتے ہیں۔

Foundation of Apple Computer (1976)

Homebrew Computer Club and Apple I

ہوم بریو کمپیوٹر کلب سے متاثر ہو کر وازنیاک نے ایپل I ڈیزائن کیا جو ایک سکرین اور کی بورڈ سے جڑ سکتا تھا۔ سٹیو جابز نے اسے بیچنے کا مشورہ دیا۔

Establishment: April 1, 1976

1 اپریل 1976 کو سٹیو جابز، سٹیو وازنیاک اور رونالڈ وین نے مل کر ایپل کمپیوٹر کمپنی کی بنیاد رکھی۔ رونالڈ وین نے صرف 12 دن بعد اپنے 10% حصص $800 میں واپس بیچ دیے، جو تاریخ کی سب سے بڑی مالی غلطی سمجھی جاتی ہے۔

Why the Name "Apple"?

سٹیو جابز نے یہ نام اس لیے رکھا کیونکہ وہ سیب پسند کرتے تھے، یہ فون ڈائریکٹری میں اٹاری سے پہلے آتا تھا اور یہ نام دوستانہ اور یادگار تھا۔

First Order

پہلا آرڈر "دی بائٹ شاپ" سے ملا۔ جابز نے ادھار پر پرزے خرید کر 50 کمپیوٹرز بنا کر بیچے اور بعد میں تقریباً 200 یونٹ فروخت کیے۔

Mike Markkula: Investor and Mentor

ایپل کو آگے بڑھانے کے لیے مائیک مارکولا نے $250,000 کی سرمایہ کاری کی۔ وہ ایپل کے پہلے CEO بنے اور انہوں نے جابز کو مارکیٹنگ اور ہمدردی، توجہ، اور تاثر کے اصول سکھائے۔

Apple II: The First Public Computer (1977)

1977 میں ایپل II متعارف کرایا گیا جو رنگین گرافکس کے ساتھ پہلا پرسنل کمپیوٹر تھا۔ جابز نے اس کے پلاسٹک کیس کے ڈیزائن، پیکیجنگ اور اشتہارات پر خصوصی توجہ دی۔

12 دسمبر 1980 کو ایپل سٹاک مارکیٹ میں درج ہوئی، جس کے بعد سٹیو جابز 25 سال کی عمر میں $256 ملین کے مالک بن گئے۔

Macintosh: Dream to Reality (1979-1984)

1979 میں زیروکس پارک کا دورہ کرنے کے بعد جابز نے گرافیکل یوزر انٹرفیس (GUI) اور ماؤس کی طاقت سمجھی اور اسے میکنٹوش کا حصہ بنایا۔

جابز اپنی ٹیم سے سخت محنت کرواتے اور اپنے "ریئلٹی ڈسٹورشن فیلڈ" سے انہیں ناممکن کام کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ 24 جنوری 1984 کو انہوں نے میکنٹوش کو ایک تاریخی اشتہار (1984) کے ساتھ لانچ کیا۔

Getting Fired from Apple (1985)

جابز نے پیپسی کے CEO جان اسکلی کو ایپل لانے کے لیے قائل کیا۔ لیکن میکنٹوش کی سست فروخت اور جابز کے سخت رویے کی وجہ سے دونوں میں لڑائی ہو گئی۔ مئی 1985 میں بورڈ نے اسکلی کا ساتھ دیا، جس کے بعد جابز کو اپنی ہی بنائی ہوئی کمپنی سے جانا پڑا۔

NeXT and Pixar: A New Beginning (1985-2006)

NeXT Computer

جابز نے NeXT کی بنیاد رکھی۔ یہ ہارڈویئر میں ناکام رہی لیکن اس کا آپریٹنگ سسٹم (NeXTSTEP) بعد میں macOS اور iOS کی بنیاد بنا، اور اسی کمپیوٹر پر پہلا ویب براؤزر بنا۔

Pixar Animation Studios

1986 میں انہوں نے جارج لوکاس سے گرافکس ڈویژن خرید کر پکسار بنایا۔ انہوں نے کئی سال اپنی جیب سے پیسے لگائے۔ 1995 میں "ٹوائے اسٹوری" کی بے مثال کامیابی کے بعد وہ ارب پتی بن گئے۔ 2006 میں ڈزنی نے پکسار کو خریدا اور جابز ڈزنی کے سب سے بڑے انفرادی حصص دار بن گئے۔

Return to Apple (1996-1997)

1996 میں ایپل دیوالیہ ہونے کے قریب تھی۔ انہوں نے نیا آپریٹنگ سسٹم حاصل کرنے کے لیے NeXT کو خرید لیا۔ اس طرح سٹیو جابز 1997 میں ایپل میں واپس آئے، پہلے ایڈوائزر کے طور پر اور پھر بطور CEO۔

انہوں نے آتے ہی کمپنی میں کانٹ چھانٹ کی، درجنوں پروڈکٹس بند کیے اور مشہور "Think Different" مہم شروع کی۔

The Apple Renaissance (1998-2010)

1. iMac (1998): جونی آئیو کے ڈیزائن کردہ خوبصورت ٹرانسلوسنٹ کمپیوٹر نے ایپل کی قسمت بدل دی۔

2. iPod اور iTunes (2001): اس نے پوری میوزک انڈسٹری کو بدل کر رکھ دیا۔ "ایک ہزار گانے آپ کی جیب میں"۔

3. iPhone (2007): یہ تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھا۔ فون، آئی پوڈ اور انٹرنیٹ ڈیوائس کو ایک ٹچ سکرین میں ضم کر دیا گیا۔

4. iPad (2010): ٹیبلٹ کمپیوٹر کا نیا تصور پیش کیا۔

Final Years and Legacy

2003 میں سٹیو جابز کو لبلبے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ انہوں نے بہادری سے جنگ لڑی لیکن بالآخر 5 اکتوبر 2011 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

Summary

سٹیو جابز کی کہانی ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے اس کے اصلی والدین نے گود دے دیا، جس نے کالج چھوڑا، جس نے ایک گیراج میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بنائی، جسے اپنی ہی کمپنی سے نکال دیا گیا، لیکن وہ واپس آیا اور اس نے دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بنا دی۔ ان کا سکھایا ہوا سبق "مختلف سوچنے" کا جذبہ آج بھی دنیا کو بدل رہا ہے۔

Tags:

Share this article:

Related Biographies

View All
Jeff Bezos Biography
Biographies

Jeff Bezos: The Complete Story of the Amazon Founder and Space Dreamer

Discover the story behind the man who revolutionized e-commerce and his space dreams.

Ryan Dahl Biography
Biographies

Ryan Dahl: The Complete Story of Node.js and Deno's Founder

Discover the story of the mathematician who revolutionized web development by creating Node.js and Deno.

Zhang Yiming Biography
Biographies

Zhang Yiming: The Complete Story of TikTok's Founder & China's Youngest Billionaire

Explore the journey of China's youngest billionaire and the creation of TikTok.

Leave a Comment