Early Life and Family Background
وارن ایڈورڈ بفیٹ 30 اگست 1930 کو امریکہ کی ریاست نیبراسکا کے شہر اوماہا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام ہاورڈ بفیٹ تھا جو پیشے کے لحاظ سے ایک اسٹاک بروکر تھے اور بعد میں امریکی کانگریس کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام لیلا اسٹال بفیٹ تھا جو ایک گھریلو خاتون تھیں۔ وارن بفیٹ تین بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کی ایک بڑی بہن ڈورس بفیٹ اور ایک چھوٹی بہن رابرٹا بفیٹ ہیں۔
وارن بفیٹ کا خاندان ایک معمولی درمیانے طبقے کا خاندان تھا۔ ان کے والد ہاورڈ بفیٹ نے اپنی بروکریج فرم چلائی لیکن 1929 کی عظیم معاشی کساد بازاری کے دوران انہیں بھی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مشکل دور میں جب وارن بفیٹ بالکل چھوٹے تھے، ان کے خاندان نے تنگ دستی کے دن دیکھے۔ لیکن ان کے والد نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ سے اپنا کاروبار کھڑا کیا۔
وارن کے والد ہاورڈ بفیٹ کی شخصیت نے وارن پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ ہاورڈ ایک ایمانداری اور اصولوں کے پابند انسان تھے۔ وہ سیاست میں آئے تو بھی اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ وارن بفیٹ آج بھی کہتے ہیں کہ ان کے والد ان کی زندگی کے سب سے بڑے ہیرو تھے۔ والد کی یہ تعلیم کہ "اپنے اصولوں پر قائم رہو اور عوام کی رائے سے متاثر ہو کر فیصلے مت بدلو" وارن بفیٹ کی پوری زندگی کا رہنما اصول بنی۔
Childhood Business Beginnings
وارن بفیٹ کو بچپن سے ہی پیسے کمانے اور نمبروں سے گہری دلچسپی تھی۔ یہ بات حیران کن ہے لیکن سچ ہے کہ جب وارن صرف چھ سال کے تھے تو انہوں نے اپنا پہلا کاروبار شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے دادا کی دکان سے کوکا کولا کی بوتلیں خریدیں اور محلے میں گھر گھر جا کر بیچیں۔ ہر بوتل پر انہیں پانچ سینٹ کا منافع ہوتا تھا۔ ایک چھ سال کا بچہ جو منافے کا حساب لگا رہا ہو، یہ بات واقعی حیرت انگیز ہے۔
جب وہ سات سال کے ہوئے تو انہوں نے لائبریری سے ایک کتاب اُٹھائی جس کا نام تھا "ایک ہزار ڈالر کمانے کے ایک ہزار طریقے"۔ اس کتاب نے ان کے ذہن میں امیر بننے کا خواب پختہ کر دیا۔ وارن نے اس وقت فیصلہ کر لیا کہ وہ 35 سال کی عمر تک ملین ائیر بن جائیں گے۔
گیارہ سال کی عمر میں وارن بفیٹ نے اپنی زندگی کا پہلا اسٹاک خریدا۔ انہوں نے "سٹیز سروس" نامی کمپنی کے تین حصص 38 ڈالر فی حصص کی قیمت پر خریدے۔ ان میں سے کچھ حصص انہوں نے اپنی بہن ڈورس کے لیے بھی خریدے۔ خریدنے کے بعد اسٹاک کی قیمت گر کر 27 ڈالر تک آ گئی۔ وارن بہت پریشان ہوئے لیکن انہوں نے صبر کیا۔ جب قیمت واپس 40 ڈالر تک پہنچی تو انہوں نے بیچ دیا اور صرف دو ڈالر فی حصص کا منافع کمایا۔ لیکن بعد میں وہ حصص 200 ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس تجربے سے وارن بفیٹ نے زندگی کا ایک اہم سبق سیکھا: صبر سب سے بڑا ہتھیار ہے اور جلد بازی سب سے بڑا نقصان۔
بچپن میں ہی وارن نے اخبار بانٹنے کا کام بھی شروع کیا۔ وہ صبح سویرے اُٹھتے اور واشنگٹن پوسٹ اور ٹائمز ہیرالڈ اخبار گھر گھر پہنچاتے۔ اس کام سے وہ مہینے میں 175 ڈالر کماتے تھے جو اس زمانے میں بہت سے بالغ لوگوں کی تنخواہ سے بھی زیادہ تھی۔
چودہ سال کی عمر میں وارن بفیٹ نے 1200 ڈالر جمع کر لیے تھے اور انہوں نے نیبراسکا میں 40 ایکڑ کھیتی باڑی کی زمین خریدی اور اسے کسانوں کو کرایے پر دے دیا۔ سوچیے ایک چودہ سال کا نوجوان جو زمین خرید کر کرایے پر دے رہا ہو۔ یہ وارن بفیٹ کی غیر معمولی سوچ اور کاروباری ذہانت کی واضح نشانی تھی۔
Educational Journey
وارن بفیٹ نے ابتدائی تعلیم اوماہا کے مقامی اسکولوں سے حاصل کی۔ جب ان کے والد 1942 میں امریکی کانگریس کے رکن منتخب ہوئے تو پورا خاندان واشنگٹن ڈی سی منتقل ہو گیا۔ وہاں وارن نے ایلس ڈیل جونیئر ہائی اسکول اور پھر ووڈرو ولسن ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔
1947 میں صرف 17 سال کی عمر میں وارن بفیٹ نے ہائی اسکول سے گریجویشن کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی اسکول کی سالانہ کتاب میں ان کی تصویر کے نیچے لکھا تھا: "ریاضی کا ماہر، مستقبل کا اسٹاک بروکر"۔ لوگ اس وقت بھی سمجھ گئے تھے کہ یہ لڑکا عام نہیں ہے۔
والد چاہتے تھے کہ وارن کالج جائیں لیکن وارن کاروبار میں لگے رہنا چاہتے تھے۔ آخرکار والد کی خواہش پر وارن نے یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے وارٹن اسکول آف بزنس میں داخلہ لیا۔ لیکن وارن کو وہاں کی تعلیم پسند نہیں آئی۔ انہیں لگتا تھا کہ پروفیسر صرف تھیوری پڑھا رہے ہیں جبکہ وہ خود عملی طور پر ان سے زیادہ جانتے ہیں۔ دو سال بعد انہوں نے وارٹن چھوڑ دیا اور اپنے آبائی شہر اوماہا واپس آ گئے۔
اوماہا واپس آ کر وارن نے یونیورسٹی آف نیبراسکا لنکن میں داخلہ لیا اور 1950 میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ صرف تین سال میں انہوں نے اپنی ڈگری مکمل کر لی کیونکہ انہوں نے سمر کلاسز بھی لیں۔
اب وارن کا ارادہ تھا کہ وہ ہارورڈ بزنس اسکول میں ایم بی اے کے لیے داخلہ لیں۔ انہوں نے درخواست دی اور انٹرویو بھی دیا لیکن ہارورڈ نے انہیں مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وارن بہت کم عمر ہیں۔ یہ وارن بفیٹ کی زندگی کا ایک بڑا رد تھا لیکن آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو یہ شاید ان کی زندگی کا بہترین فیصلہ ثابت ہوا، کیونکہ اس رد کے بعد وارن نے کولمبیا بزنس اسکول کا انتخاب کیا جہاں ان کی ملاقات ان کے زندگی بدلنے والے استاد سے ہوئی۔
Mentor and Guide: Benjamin Graham
کولمبیا بزنس اسکول میں وارن بفیٹ کی ملاقات بینجمن گراہم سے ہوئی جو "ویلیو انویسٹنگ" کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ بینجمن گراہم نے دو مشہور کتابیں لکھی تھیں: "سیکیورٹی اینالیسس" اور "دی انٹیلیجنٹ انویسٹر"۔ وارن بفیٹ نے "دی انٹیلیجنٹ انویسٹر" کو کولمبیا جانے سے پہلے ہی پڑھ لیا تھا اور اسے وہ آج بھی سرمایہ کاری پر لکھی گئی بہترین کتاب قرار دیتے ہیں۔
بینجمن گراہم کا فلس কালী بہت سادہ تھا: "اسٹاک کو اس وقت خریدو جب وہ اپنی اصل قیمت سے بہت کم قیمت پر مل رہا ہو"۔ اس فرق کو وہ "مارجن آف سیفٹی" کہتے تھے۔ یعنی اگر کسی کمپنی کی اصل قیمت 100 ڈالر ہے اور بازار میں وہ 60 ڈالر میں مل رہی ہے تو اسے خریدنا چاہیے کیونکہ ایک دن بازار اس کی صحیح قیمت پہچان لے گا۔
وارن بفیٹ گراہم کے شاگردوں میں سب سے ذہین تھے۔ کولمبیا بزنس اسکول کی تاریخ میں بینجمن گراہم نے پہلی بار کسی طالب علم کو A+ گریڈ دیا اور وہ طالب علم وارن بفیٹ تھے۔ 1951 میں وارن نے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
Buffett Partnership Limited: Foundation of Success
1956 میں جب وارن بفیٹ اوماہا واپس آئے تو ان کی عمر صرف 26 سال تھی۔ ان کے پاس اس وقت تقریباً 174,000 ڈالر کی ذاتی جمع پونجی تھی جو آج کے حساب سے تقریباً 18 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ یہ رقم انہوں نے بچپن سے لے کر اب تک کے مختلف کاروباروں اور سرمایہ کاریوں سے جمع کی تھی۔
وارن نے "بفیٹ پارٹنرشپ لمیٹڈ" کے نام سے ایک سرمایہ کاری فرم کھولی۔ شروع میں ان کے ساتھ سات شراکت دار شامل ہوئے جن میں ان کے خاندان کے افراد اور قریبی دوست شامل تھے۔ ان سب نے مل کر کل 105,000 ڈالر لگائے جبکہ وارن نے خود صرف 100 ڈالر لگائے۔ لیکن فرم کی سرمایہ کاری کے فیصلے صرف وارن کرتے تھے۔
اس فرم کی کارکردگی حیران کن تھی۔ 1957 سے 1969 تک وارن بفیٹ نے اپنے شراکت داروں کو سالانہ اوسطاً 29.5 فیصد منافع دلایا جبکہ اسی عرصے میں ڈاؤ جونز انڈیکس نے صرف 7.4 فیصد کا منافع دیا۔
Berkshire Hathaway: A Historic Decision
وارن بفیٹ کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ برکشائر ہیتھ وے کی خریداری تھا۔ یہ ایک کپڑے کی کمپنی تھی جو نیو انگلینڈ میں واقع تھی اور مالی مشکلات کا شکار تھی۔ 1962 میں وارن نے اس کے حصص خریدنا شروع کیے جب یہ بہت سستے تھے۔ 1965 تک انہوں نے کمپنی کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
شروع میں وارن بفیٹ نے کپڑے کے کاروبار کو بچانے کی کوشش کی لیکن جلد ہی انہیں سمجھ آ گیا کہ یہ کاروبار منافع بخش نہیں رہے گا۔ وارن بفیٹ نے ایک بہت ذہین فیصلہ کیا۔ انہوں نے برکشائر ہیتھ وے کو بطور ہولڈنگ کمپنی استعمال کرنا شروع کیا۔
Major Investments and Successes
1. کوکا کولا (1988): وارن بفیٹ نے 1988 میں کوکا کولا کمپنی کے حصص خریدنا شروع کیے۔ انہوں نے تقریباً 1 ارب ڈالر لگا کر کمپنی کے 6.2 فیصد حصص خریدے۔ آج یہ سرمایہ کاری تقریباً 25 ارب ڈالر سے زیادہ کی ہو چکی ہے۔
2. امریکن ایکسپریس: مشکل وقت میں امریکن ایکسپریس کے حصص خریدے جو بے حد کامیاب رہے۔
3. واشنگٹن پوسٹ (1973): بازار میں مندی کے دوران اخبار کمپنیوں کے حصص سستے تھے، وارن نے 10 ملین ڈالر لگائے جو بعد میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے ہو گئے۔
4. گیکو (GEICO) انشورنس: 1996 میں پوری کمپنی خرید لی جو آج برکشائر کی سب سے اہم کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
5. سیز کینڈیز (1972): 25 ملین ڈالر میں خریدی گئی اس کمپنی نے سکھایا کہ ایک اچھی کمپنی مناسب قیمت پر خریدنا بہتر ہے۔
6. ایپل (Apple) - 2016: 2016 میں ایپل کے حصص خریدنا شروع کیے۔ یہ ان کی سب سے بڑی سرمایہ کاری بن گئی (تقریباً 170 ارب ڈالر تک پہنچی)۔
7. بی این ایس ایف ریلوے (2010): 44 ارب ڈالر میں امریکہ کی سب سے بڑی ریلوے کمپنی کو خریدا۔
Another Important Mentor: Charlie Munger
وارن بفیٹ کی زندگی میں بینجمن گراہم کے بعد سب سے اہم شخص چارلی منگر تھے۔ چارلی منگر برکشائر ہیتھ وے کے نائب چیئرمین تھے اور وارن بفیٹ کے سب سے قریبی مشیر تھے۔ چارلی نے سکھایا کہ "معقول قیمت پر شاندار کمپنی خریدنا بہتر ہے بجائے سستی قیمت پر معمولی کمپنی خریدنے کے"۔ بدقسمتی سے چارلی منگر 28 نومبر 2023 کو 99 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
The Journey of Wealth
- 1930 (پیدائش): 0 ڈالر
- 1941 (11 سال): پہلا اسٹاک خریدا
- 1960 (30 سال): 10 لاکھ ڈالر (ملین ائیر بنے)
- 1986 (56 سال): 1 ارب ڈالر (بلین ائیر بنے)
- 2008 (78 سال): 62 ارب ڈالر (دنیا کے امیر ترین شخص بنے)
- 2024 (93 سال): تقریباً 130 ارب ڈالر سے زیادہ
Detailed Analysis of Warren Buffett's Secrets to Success
1. ویلیو انویسٹنگ: "جب لوگ لالچی ہوں تو ڈرو اور جب لوگ ڈریں تو لالچی بنو"۔
2. طویل مدتی سوچ: ان کا پسندیدہ عرصہ حصص رکھنے کا "ہمیشہ" ہے۔
3. اپنے دائرے میں رہنا: صرف ان کاروباروں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جنہیں وہ سمجھتے ہیں۔
4. کمپاؤنڈنگ کی طاقت: اپنا منافع نکالنے کی بجائے دوبارہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
5. پڑھنے کی عادت: روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے پڑھتے ہیں۔
Philanthropy and Donations
وارن بفیٹ دنیا کے سب سے بڑے خیرات دینے والوں میں سے ایک ہیں۔ 2006 میں انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کو دینے کا وعدہ کیا۔ 2010 میں "دی گیونگ پلیج" شروع کیا۔ 2024 تک وہ 55 ارب ڈالر سے زیادہ خیرات میں دے چکے ہیں۔
Summary
وارن بفیٹ کی کہانی ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو اوماہا کی سڑکوں پر اخبار بانٹتا تھا اور آج دنیا کے سب سے کامیاب سرمایہ کاروں میں سے ایک ہے۔ ان کی کامیابی کا راز ان کی محنت، صبر، سادگی، مسلسل سیکھنے کی عادت اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے میں ہے۔